بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی میں ہیرے جواہرات کا کام کرنے والی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ایم بی اے گریجویٹ نوجوان ذیشان علی خان نے نوکری کیلئے درخواست دی لیکن ذیشان کا انٹرویو لینے کی بجائے ان کی درخواست یہ کہہ کررد کردی گئی کہ ان کا ادارہ مسلمانوں کو نوکری نہیں دیتا۔ ذیشان کی جانب سے کمپنی کی بھیجی گئی جوابی ای میل سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوتے ہی کمپنی پر تنقید کا سلسلہ شرو ع ہوگیا جب کہ ذیشان نے اپنے دوستوں کے مشورے پر اس ادارے کے خلاف تھانے میں مقدمہ درج کرادیا ہے.
ممبئی پولیس کے مطابق اس واقعے کے اصل ذمہ دار تک پہنچنے کے لئے تفتیش کی جارہی ہے اور جرم ثابت ہونے پر 3 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب متعلقہ کمپنی نے ذیشان کو ایک اور ای میل کی ہے جس میں اس واقعے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ ان کےایک اہلکار کی غلطی ہے اور ان کا ادارہ رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر امیدواروں میں تفریق نہیں کرتا لہٰذا کمپنی کی جانب سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچنے پر معذرت کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ مذہبی تعصب کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل جائیداد کی خرید و فروخت کی ایک ویب سائٹ پر فلیٹ کے اشتہار میں واضح الفاظ میں لکھا گیا تھا کہ مسلمان خریدار زحمت نہ کریں جب کہ سرکاری اداروں میں بھی مسلمانوں کو ملازمت کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اوران کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے کہیں کم ہے۔
0 تبصرے :
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازیں۔ گو نواز گو!اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔