ہفتہ، 30 مئی، 2015

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان تیسرا ون ڈے آج کھیلا جائے گا

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل آج قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا جہاں میزبان ٹیم سہل پسندی سے بچتے ہوئے مقصد پانے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ابتدائی دونوں میچز جیت کر سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی تھی، ٹیم اب کلین سویپ کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کو یادگار بنانے کا خواہاں ہے، دوسری جانب چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کی امیدیں زندہ رکھنے کے لئے بھی کامیابی خاص اہمیت رکھتی ہے، پاکستان کو اپنے پوائنٹس برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے، مہمانوں کو کلین سویپ نہ کرنے کی صورت میں گرین شرٹس کی مہم کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے۔

عالمی رینکنگ کے مطابق اس وقت پاکستان 87 پوائنٹس کے ساتھ نویں جب کہ گذشتہ سیریز میں کلین سویپ کرنے والی بنگلہ دیشی ٹیم 88 کے ہمراہ آٹھویں نمبر پر ہے۔ زمبابوے کو کلین سویپ کرنے پر پاکستان کے موجودہ پوائنٹس برقرار رہیں گے جس کی بدولت سری لنکا میں جیت سے چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کے امکانات باقی رہیں گے،اگر ایسا نہ ہو سکا تو محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سیریز کے آخری میچ میں بابر اعظم سمیت نوجوان کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جاسکتا ہے، بولرز نے پہلے میچ کی بانسبت دوسرے میں بہتر کارکردگی دکھائی لیکن چھامو چھیبابا اور سکندر رضا نے دل بھر کر اسٹروکس کھیلے، حریف کو ایک بار پھر فتح سے دور رکھنے کیلیے اس بار لائن اور لینتھ میں مزید بہتری لانا ہوگی،وہاب ریاض مہلک ہتھیار جب کہ یاسر شاہ ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتے ہیں،زمبابوین ٹیم کپتان ایلٹن چگمبرا اور مڈل آرڈر بیٹسمین کریگ ایرون کی خدمات سے محروم ہوچکی ہے، قائم مقام کپتان ہملٹن مساکیڈزا کو دستیاب وسائل سے ہی کام چلانا ہوگا،ان کی اپنی پرفارمنس بھی اہمیت کے حامل ہے۔

مہمان ٹیم کو دورے کی اکلوتی کامیابی کے لئے گذشتہ میچز میں سامنے آنے والی بولنگ اور فیلڈنگ میں خامیوں پر بھی قابو پانا ہوگا۔ دوسرا میچ اور سیریز جیتنے کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کپتان اظہر علی نے کہا کہ بیٹنگ وکٹ پر بولرز نے خوب جان لڑائی اور حریف کو 268تک محدود رکھا،بیٹسمین بھی توقعات پر پورا اترے،کامیابی پوری ٹیم کی مشترکہ محنت کا نتیجہ تھی، کوشش کرینگے کہ فتوحات کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے کلین سویپ کا ہدف حاصل کریں،ذاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کپتان سے شائقین کی توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں، بطور قائد کھلاڑی کو اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔

ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ سے دوری کے دور میں سینئرز اور کوچز نے رہنمائی کی، میں اپنا کھیل بہتر بنانے کے لئے محنت کرتا رہا جس کا ثمر ملنا شروع ہوگیا ہے، نارمل انداز میں کھیلنے کے لئے میدان میں جاتا ہوں جس کی وجہ سے کوئی اضافی دباؤ محسوس نہیں کرتا، انھوں نے کہا کہ جدیدکرکٹ بڑی تیز ہوگئی، پوری ٹیم کو اس مزاج میں ڈھلنا ہوگا، ہم اس کے تقاضوں پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔

زمبابوے کے خلاف فتح سے نہ صرف کلین سویپ مکمل ہو گا بلکہ چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کی امیدیں زندہ رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ کپتان اظہر علی کا کہنا ہے کہ فتوحات کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی رینکنگ میں ابتدائی8 ٹیمیں ہی چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینے کی اہل ہوتی ہیں۔

0 تبصرے :

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازیں۔ گو نواز گو!

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔