ہفتہ، 30 مئی، 2015

برطانیہ میں مقیم پاکستانی کرکٹر معمولی سی بات پر ناراض ہو کر مقامی حکام کو طعنے دینے لگے

انگلش کرکٹ سیزن کھیلنے کے لیے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کرکٹر راؤ افتخار انجم کونسل انتظامیہ کی طرف سے ”ڈسٹ بن“ نہ ملنے پر برہم ہو گئے اور دعویٰ کر دیا کہ پاکستان میں صفائی کا نظام برطانیہ سے بہتر ہے۔

راؤ افتخار نے جب اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ ڈالنے کے لیے انتظامیہ کو ڈسٹ بن دینے کی درخواست کی تو انہوں نے کہا کہ ابھی ہمارے پاس ڈسٹ بن نہیں ہے، آپ اپنا کوڑا کرکٹ اپنے گھر کے باغیچے میں جمع کرتے رہیں۔ 

راؤ افتخار انجم کو مضحکہ خیز صورتحال اس وقت درپیش آئی جب اس کے کرکٹ کلب نے اسے ایک ڈسٹ بن خرید کر دی لیکن کونسل انتظامیہ نے راؤ افتخار کو یہ ڈسٹ بن استعمال کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ” اس کا رنگ غلط ہے ، یہ کونسل کی ڈسٹ بن کے رنگ سے مطابقت نہیں رکھتااس لیے آپ یہ ڈسٹ بن استعمال نہیں کر سکتے۔ راؤ افتخار اپریل کے مہینے میں برطانیہ آئے تھے اور سٹوک آن ٹرینٹ میں مقیم ہیں، تب سے انہیں ڈسٹ بن نہیں دی گئی جس کے باعث وہ اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ شاپنگ بیگز میں ڈال کر کرکٹ کلب لیجاتے ہیں جہاں اسے کلب کی ڈسٹ بن میں ڈال دیتے ہیں۔

دو بچوں کے باپ راؤ افتخار کا کہنا ہے کہ سٹوک آن ٹرینٹ میں صفائی کا نظام پاکستان سے بھی بدتر ہے۔ پاکستان میں انتظامیہ سے ایک ڈسٹ بن مانگیں تو وہ 2دیتے ہیں، کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ عوام صفائی کا خیال رکھیں۔میں یہاں اپنی فیملی کے ہمراہ 7ہفتوں سے ڈسٹ بن کے بغیر رہ رہا ہوں۔سٹوک آن ٹرینٹ کی سٹی کونسل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ لوگ ڈسٹ بن لے لیتے ہیں لیکن جب شہر چھوڑتے ہیں تو ڈسٹ بن بھی ساتھ ہی لے جاتے ہیں اس لیے ہمارے پاس ڈسٹ بنز کی کمی واقع ہو گئی ہے۔ راؤ افتخار جنہوں نے پاکستان کی طرف سے ایک ٹیسٹ اور 62ون ڈے میچ کھیل رکھے ہیں ان 771لوگوں میں شامل ہیں جنہیں سٹوک آن ٹرینٹ میں ڈسٹ بن نہیں دی گئی۔ ڈسٹ بن کی قیمت 26پاؤنڈ کے قریب بتائی جاتی ہے۔

0 تبصرے :

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازیں۔ گو نواز گو!

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔