ہفتہ، 30 مئی، 2015

سعودی عرب میں کفیلوں کے ہاتھوں ستائے غیر ملکیوں کیلئے بڑی آسانی،

سعودی نیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ کفیلوں اور غیر ملکی ملازمین کے درمیان اختلافات کے نتیجے میں ’کینہ پروری‘ کی بنا پر درج کروائے گئے کیسوں میں مداخلت کی جاتی ہے تا کہ متاثرہ غیر ملکی ملازمین کو مدد فراہم کی جاسکے، اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے بھی کوشش کی جارہی ہے۔اگر آپ بھی سعودی عرب میں مقیم ہیں اور اپنے کفیل کے ہاتھوں پریشان ہیں تو آپ بھی اس ادارے سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ 

عام طور پر ملازمین کے کفیلوں سے فرار کے نتیجے میں یہ کیس درج کروائے جاتے ہیں اور ان کے نتیجے میں ملازمین کو گرفتار کرنے کے بعد ملک بدر کردیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کے کیسوں کی سب سے زیادہ تعداد جدہ اور ریاض سے موصول ہوتی ہے کیونکہ یہاں غیر ملکی ملازمین کی بھاری تعداد پائی جاتی ہے۔

نیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے ادارے کی مداخلت کے باوجود یہ مسئلہ تاحال تمام مملکت میں موجود ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی و لیبر ایڈمنسٹریشن کی طرف سے نئے ضوابط کے نفاذ کے بعد غیر ملکیوں کے خلاف ’کینہ پروری‘ پر مبنی کیسوں کا مستقل طور پر خاتمہ ہوجائے گا۔


0 تبصرے :

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازیں۔ گو نواز گو!

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔