
عام طور پر ملازمین کے کفیلوں سے فرار کے نتیجے میں یہ کیس درج کروائے جاتے ہیں اور ان کے نتیجے میں ملازمین کو گرفتار کرنے کے بعد ملک بدر کردیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کے کیسوں کی سب سے زیادہ تعداد جدہ اور ریاض سے موصول ہوتی ہے کیونکہ یہاں غیر ملکی ملازمین کی بھاری تعداد پائی جاتی ہے۔
نیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے ادارے کی مداخلت کے باوجود یہ مسئلہ تاحال تمام مملکت میں موجود ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی و لیبر ایڈمنسٹریشن کی طرف سے نئے ضوابط کے نفاذ کے بعد غیر ملکیوں کے خلاف ’کینہ پروری‘ پر مبنی کیسوں کا مستقل طور پر خاتمہ ہوجائے گا۔
0 تبصرے :
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازیں۔ گو نواز گو!اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔