سنتے آئے تھے اصل معبود کی عبادت چھوڑ کر ہر انوکھی چیز کو خدا سمجھ لینے والے عقل سے پیدل ہوتے ہیں، لیکن اب یقین آ گیا ہے۔
حماقت ایسی ہوئی ہے کہ ایک دو ملکوں میں نہیں پوری دنیا میں رسوائی ہو رہی ہے بلکہ جگ ہنسائی کی بات ہے۔ جدید ڈیجیٹل دنیا، سیٹلائیٹ، ڈرون طیارے، انٹرنیٹ، ان سب کے باوجود پتھروں کے پجاری ابھی تک پتھروں کے دور کی ہی سوچ رکھتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ کمان سے نکلا ہو تیر اور زبان سے نکلی ہوئی بات واپس نہیں آتی، بھارت کی جانب سے پاکستانی جاسوس کبوتر کی گرفتاری کی مضحکہ خیز خبر منظرعام پر آتے ہی، سب نے اُسے آڑے ہاتھوں لیا۔ سوشل میڈیا پر بھارت کی روایتی بزدلی کو ایک کبوتر کے ساتھ جوڑا گیا۔ کبوتر کے اتنے تذکرے ہو رہے ہیں کہ اگر بھارتی قید سے رہائی کے بعد باقاعدہ طور پر اُس کو پاکستان کے حوالے کیا گیا تو عین ممکن ہے کہ پاکستانی عوام اس کے لیے کسی سرکاری یا فوجی اعزاز کا بھی مطالبہ کر دیں۔ کبوتر کی رہائی کے حوالے سے تو باقاعدہ طور پر آواز اٹھائی جا ہی رہی ہے، ساتھ ساتھ شرم کرو حیا کرو ہمارا کبوتر رہا کرو کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

